مہر خبررساں ایجنسی، مانیٹرنگ ڈیسک: ایران کی معیشت پچھلے چند سالوں سے دباؤ کا شکار رہی ہے، جس کی وجہ سے عام لوگوں کی زندگی پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ امریکہ اور یورپی ممالک کی غیر منصفانہ پابندیاں، بین الاقوامی مالیاتی دباؤ اور مقامی کرنسی کی قدر میں کمی نے خوراک، رہائش، ایندھن اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے۔
گذشتہ ایام کے دوران تہران میں شہری، تاجر اور اقتصادی کارکن پرامن طور پر سڑکوں پر نکلے اور حکومت سے اپنے جائز مطالبات کا اظہار کیا اور بنیادی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے، ضروریات زندگی کی رسائی کو آسان کرنے اور مالیاتی اصلاحات کے نفاذ پر زور دیا۔ احتجاجی مظاہروں کا مقصد بنیادی طور پر حکومت کی توجہ اپنی زندگیوں کی بہتری کی طرف مبذول کرانا اور معاشرتی و اقتصادی اصلاحات کو آگے بڑھانا ہے۔ شہری اپنی بات پرامن اور ذمہ دارانہ انداز میں پیش کر رہے ہیں تاکہ مسائل کے حل کے لیے مثبت اقدامات کیے جاسکیں، اور معاشرتی نظم و سکون برقرار رہے۔
سازشی عناصر کی پرامن احتجاجات کو پرتشدد بنانے کی کوشش
احتجاجات معاشی مطالبات اور روزمرہ مشکلات تک محدود رہے تاہم، ایران میں بعض علاقوں میں بیرونی ایجنسیوں اور ایران مخالف گروہوں نے مداخلت کرکے پرامن احتجاجات کو اصل ہدف سے دور کرنے کی کوشش کی۔ ان عناصر نے عوامی مطالبات کے جائز اظہار سے فائدہ اٹھانے اور سکیورٹی کے لیے خطرہ پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا۔ شہریوں کے تعاون سے سات افراد گرفتار کیے گئے، جن کے تعلقات بیرونی مخالف گروہوں اور دشمن ایجنسیوں سے پائے گئے۔
ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوا ہے کہ بعض عناصر کا مقصد عوامی مطالبات کو اجاگر کرنا نہیں تھا، بلکہ وہ عوامی ناراضگی سے فائدہ اٹھا کر صورتحال کو کشیدہ بنانا چاہتے تھے۔ سکیورٹی فورسز نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے حالات کو کنٹرول میں لیا اور واقعے کی مزید تحقیقات شروع کردیں۔
اسی نوعیت کی صورتحال لوردجان، صوبہ چہارمحال و بختیاری میں بھی سامنے آئی، جہاں یونین کے پرامن اجتماعات کو بعض منظم عناصر کی جانب سے غلط رخ دینے کی کوشش کی گئی۔ مقامی حکام کے مطابق، احتجاج مجموعی طور پر پرامن تھا، تاہم چند افراد نے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی۔
مہر نیوز کے مراسلین کے مطابق، بعض مقامات پر عوام میں بے چینی پیدا کرنے اور نظم و ضبط متاثر کرنے کی کوششیں دیکھنے میں آئیں۔ مرودشت، صوبہ فارس میں بھی محدود پیمانے پر سڑکیں بند کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، تاہم سکیورٹی اداروں کی فوری کارروائی سے صورتحال جلد معمول پر آگئی۔
مجموعی مشاہدات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک جانب شہری اپنے معاشی اور عوامی مطالبات پر توجہ دلانا چاہتے ہیں، جبکہ دوسری جانب کچھ منظم عناصر ایسے مواقع سے فائدہ اٹھا کر احتجاجات کو غیر مؤثر یا کشیدہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مراسلین نے شہریوں، بالخصوص والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی رہنمائی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ عوامی مطالبات کا اظہار پرامن اور ذمہ دارانہ دائرے میں رہے۔
اطلاعات کے مطابق، بعض شہروں میں چند افراد نے رات کے وقت چہرے ڈھانپ کر بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کی اور عوامی املاک کو نقصان پہنچایا، تاہم مجموعی طور پر حالات قابو میں رہے اور سکیورٹی ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ خوش قسمتی سے ایرانی عوام نے ہوشیاری اور سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے احتجاجات کے دوران کسی بھی خطرناک اقدام یا شدت پسند گروہوں میں شامل ہونے سے گریز کیا۔ یہ عوام کی سماجی پختگی اور دشمنوں کی سازشوں کے بارے میں آگاہی کا ثبوت ہے۔
پولیس اور سیکورٹی فورسز کا پیشہ وارانہ رویہ
ان احتجاجی مظاہروں کا ایک اور اہم پہلو پولیس کا پیشہ ورانہ اور انسانی رویہ ہے۔ اس دوران پولیس نے غیر ضروری تصادم سے اجتناب کیا، تحمل اور ضبطِ نفس کا مظاہرہ کیا اور حالات کو کشیدگی کی طرف بڑھنے سے روکا۔ اس کے باوجود بعض علاقوں میں مسلح شرپسند عناصر نے حساس مقامات کے قریب آنے یا پولیس مراکز کے آس پاس تخریبی کارروائیوں کی کوششیں کیں۔ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ گرفتار کیے گئے کچھ سرکردہ عناصر مکمل تربیت یافتہ تھے اور شناخت سے بچنے کے لیے ان کے پاس موبائل فون نہیں تھے۔
یہ عناصر عوام کو بھڑکانے اور پرامن احتجاجات کو منتشر کرنے کی کوشش کرتے رہے، اور ان کے درمیان خواتین بھی قائدانہ کردار ادا کر رہی تھیں۔ علاوہ ازیں، شرپسندوں نے منصوبہ بنایا کہ احتجاجات رات دیر تک جاری رہے جبکہ واضح ہے کہ یہ اوقات شہری احتجاج کے لیے نہیں ہیں بلکہ بدامنی اور انتشار پیدا کرنے کے مقصد سے استعمال کیے جاتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق حال ہی میں گرفتار کچھ گروہوں کو منظم تربیت دی گئی تھی، اور ان کا مقصد پولیس کو سخت ردعمل پر مجبور کرنا اور معاشرتی کشیدگی پیدا کرنا تھا۔ پولیس کے پیشہ ورانہ رویے اور عوام کی ہوشیاری نے پرتشدد اقدامات کو روکنے اور امن و امان کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔
آپ کا تبصرہ